حضرت عمر رضی اللہ عنہ گانا بجانے والے کی فریاد اور حضرت عمر کی رضی اللہ عنی کی ننگے پاؤں دوڑنا کا واقعہ
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک گویا تھا….
چھپ چھپ کے گاتا تھا….
گانا بجانا تو حرام ھے چھپ چھپا کر گاکے وہ اپنے شوق پورا کرتا تھا….
لوگ کچھ پیسے اس کو دے دیتے تھے…
ایک دفعہ جب وہ بوڑھا ھوگیا آواز ختم ھوگئی تو فاقہ اور بھوک آگئی…
اب وہ جنت البقیع میں چلا گیا اور ایک جھاڑی کے پیچھے بیٹھ گیا…..
اور کہنے لگا…..اے اللہ جب آواز تھی تو لوگ سنتے تھے…..جب آواز نہ رہی تو سننا چھوڑ گئے….تو سب کی سنتا ھے تجھے پتا ھے میں ضعیف ھوں کمزور ھوں بے شک تیرابےفرمان ھوں….پر اے اللہ میری ضرورت کو پورا فرما….
ایسی آواز لگائی ایسی صدا بلند کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں لیٹے ھوئے تھے …آواز آئی کہ میرابندہ مجھے پکار رھا ھے اس کی مدد کو پہنچو…بقیع میں فریادی ھے اس کی فریاد رسی کرو….
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ننگے پاؤں دوڑے ….
دیکھا تو وہی بوڑھا جھاڑی کے پیچھے اپنا قصہ سنا رھا ھے….
جب اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اٹھ کر دوڑنے لگا….
کہا ٹھہرو،ٹھہرو…میں آیا نہیں بلکہ بھیجا گیا ھوں…
اس نے کہا کس نے بھیجا ھے…؟
فرمایا جسے تم پکار رھے ھو اسی نے بھیجا ھے….
تو اس نے آسمان پر نگاہ ڈالی….اے اللہ ستر سال تیری نافرمانی میں گزرے تجھے کبھی یاد نہ کیا…جب یاد کیا تو اپنے پیٹ کی خاطر…تونے پھر بھی میری آواز پر لبیک کہا…اے اللہ مجھ نافرمان کومعاف کر دے اور ایسا رویا کہ جان نکل گئی…
.حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود اسکا جنازہ پڑھایا….
تو میرے دوستو! اللہ تعالی پکڑتے اس لیے نہیں کہ اللہ تعالی رحیم و کریم ھیں…
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment